Economic System of Islam(اسلام کا نظام معیشت۔).Lec 1

انسانیت کیلئے آخری کامل دین اور نظام زندگی ہونے کے باعث اسلام تمام شعبہ ہائے زندگی کے حوالے سے جامع اور واضح رہنمائی کا حامل دین ہے۔معیشت انسانی زندگی میں محور کی حیثیت رکھتی ہے۔انسان کی معاشی زندگی کی اصلاح ہی میں دنیا اور آخرت کی فلاح مضمر ہے۔اسلام نے جہاں دوسرے تصوارات کو انقلاب بخشا ہے وہیں معاشی زندگی کے تصور کو بھی بدلا ہے۔معاشیات دور جدید میں سامنے آنے والا علمی شعبہ ہے۔اس کا باقاعدہ آغاز مغربی دنیا میں آدم سمتھ کی 1776 میں منظر عام پر آنے والی کتاب ثروت اقوام سے ہوا۔دور جدید کے ماہرین معیشت کے مطابق معاشیات سے مراد دولت کا علم ہے۔ یعنی معاشیات وہ علم ہے جو انسانی ضروریات اور ان کو پورا کرنے کیلئے میسر وسائل کا مطالعہ کرتا ہے۔ اسلام صرف دولت اور وسائل تک ہی محدود نہیں بلکہ اسکا اس کا مقصد ان معاشی افکار و نظریات اور تعلیمات کا فروغ ہے جن کی روشنی میں انسانی معاشرہ حقوق کی ادائیگی اور فرائض کی ادائیگی کے اعتدال کا ایسا مظہر بن سکے جہاں دولت کی منصفانہ تقسیم ہو اور معاشرے میں موجود وساعل اور مواقع تک ہر فرد کو منصفانہ رسائی میسر ہو۔اسلام نے معیشیت کے اس تصور کو صرف تعلیمات تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اسے عقائد کی خالصیت اور عبادات کی مقبولیت کے ساتھ منسلک کر کے اسے تصور دین کا لازمی جزو بنا دیا ہے۔

قواعد و ضوابط کی آپس میں اس طرح کی ترتیب و تشکیل کہ ان مین گہرا ربط قائم ہو جائے مظام کہلاتا ہے۔لغوی و اصطلاحی اعتبار سے کسی تصور سے تصور کے اجزائے ترکیبی اور اصول و ضوابط کو اس طرح مرتب کرنا کہ ان میں وحدت کا عنصر نمیاں ہو جائے نظام سے موسوم کیا جاتا ہے۔کسی بھی نظام کو چلانے کیلئے اسکے اصول و ظوابط ایک بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی غیر موجودگی میں اس نظام کے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکتے ہیں۔اور وہ نظام بیکار ثابت ہوتا ہے۔دور حاضر میں کئی نظام معیشت رائج ہیں لیکن اسلامی نظام معیشت کے سوا تمام نظام انسان کا معاشی مسلئہ حل کرنے سے قاصر رہے ہیں۔اسلامی نظام معیشت ایک ایسا منصفانہ مظام ہے جس میں ہر شخص کی اخلاقی، معاشرتی اور معاشی بہبود کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔یہ وجہ ہے کہ اس نظام کا متبادل کوئی اور نظام نہیں ہو سکتا ہے۔اور نہ ہی کسے اور نظام کو اس کے ساتھ وابست کیا جاسکتہ ہے۔یہ نظام ہر لحاظ سے یکتا، امتیازی حیثیت کا حامل اور انتہائی جامع ہے۔

By Professor .V.A DEMANT :

Industrial development enriches a community which is sound in its agriculture, its domestic and craft life, ad in its spiritual robustness. [source of this definition : Religion and Decline of Capitalism, New York, USA, 1952, p-147.

ہمارا اصل مسلئہ یہ ہے کہ ہم دور حاضر میں مستعمل اور رائج معاشی مظام کو تبدیل کرکے ایک ایسے نظام کی بنیاد ڈالیں جو ہماری معاشی ضروریات کو پورا کر سکے نیز ہمارے تمدن، ہماری اقدار حیات اور ہمارے نظریہ زندگی کے مطابق ہو۔

[ FUNDAMENTAL PRINCIPLES OF ISLAMIC ECONOMICS].

اسلام میں سود کی کوئ جگہ نہیں ہے۔

سود فارسی زبان کا لفظ ہے۔عربی میں اس کو ربا کہتے ہیں۔لغوی اعتبار سے اس کا معنی ہے کسی چیز کا بڑھنا۔ ربا سے مراد مال میں وہ زیادتی ہے جو سرمایہ دار مقروض کو قرض کی ادئیگی کی مہلت دے کر حاصل کرتا ہے۔اسلام نے سود کو ہر صورت میں منع کیا ہے۔

آیت کا حوالہ۔
جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ روز قیامت کھڑے نہیں ہو سکیں گے جسے شیطان نے چھو کر بدحواس کر دیا ہو۔(البقرہ)
(اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔(البقرہ
اے ایمان والو! دوگنا چوگنا کرکے سود مت کھایا کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاءو۔
(آل عمران)
حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ
کہ رسول اکرم صلی اللہ و علیہ وسلم نے فرمایا کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا اور سودی تحریر لکھنے والا اور سودی گواہی دینے والا سب پر اللہ نے لعنت فرمائی کہ یہ لوگ سب گناہ میں برابر ہیں.(المسلم) ۔

حضرت ابو ہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ آپ صلىاللهعليه_وسلم نے فرمایا کہ سود کے ستر درجے ہیں ان میں سے ادنی ترین ایسا ہے کہ کوئ اپنی ماں سے زنا کرے۔(السنن

سودی معیشت کے روحانی اور اخلاقی نقصانات

اخلاق انسان کے کردار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔روح اور اخلاق انسان کے جوہر عظیم ہیں۔سود ان پر کاری ضرب لگاتا ہے۔سود کھانے سے انسان میں اخلاقی پستی پیدا ہوتی ہے۔خود غرضی ، حرص و ہوس اور بخل پرستی بڑھتی ہے۔اس کے برعکس انسان کے انسان میں فیاضی، ہمدردی،اخوت جیسی صفات ختم ہو جاتی ہیں۔

سود کے سیاسی نقصانات

سود کی وجہ سے تعلقات عامہ متاثر ہوتے ہیں۔سیاسی معاہدات خسارے میں پڑ جاتے ہیں۔اور عالمی تعلقات خراب ہوتے ہیں۔مقروض ملک سود کے بوجھ کے نیچے زندگی گزارتا ہے۔وہ نا چاہتے ہوئے بھی سیاسی احکام لینے پر مجبور ہوتا ہے۔

سود کے معاشی نقصانات

  • غریب طبقہ کی مصیبتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • قوت خرید میں کمی۔
  • اشیائے صرف کی قیمتوں میں کمی
  • گردش دولت میں کمی
  • ارتکاز دولت
  • قرض حسنہ کا خاتمہ
  • وسیع پیمانے پر معاشی استحصال
  • بچتوں کا فقدان
  • بیروزگاری مین اضافہ
  • عیش پرست زندگی سے محبت

اجتماعی مفاد کو انفرادی مفاد پر ترجیح حاصل ہیے

اسلام کے نظام معیشیت میں انفرادی ملکیت کی نفی نہیں کی گئ ہے۔بلکہ افراد کی اشیائے منقولہ کے علاوہ زمین اور اس کی پیداوار پر بھی اس کے حق ملکیت کو تسلیم کیا گیا ہے۔
. (اور انکے مال میں سائل اور محروم کا حق مقرر تھا۔(الزاریات
اسی طرح کسی فرد واحد یا افراد جماعت کو اسلامی معاشرے میں یہ ہرگز حق حاصل نہیں ہو گا کہ انکو معاشی مفاد کے ایسے حقوق کا مالک بنا دیا جائے جو مفاد عامہ کے خلاف ہو۔ جہاں بھی انفرادی مفاد کی وجہ سے اجتماعی مفاد پر زد پڑتی ہوگئ وہاں اجتماعی مفاد کو انفرادی مفاد پر ترجیح دی جائے گی۔
حدیث رسول۔
ابیض بن حمال لکھتے ہیں کہ وہ رسول اکرم صلىاللهعليه_وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور مآرب میں نمک کی جو جھیل تھی اس کو بطور عطیہ مانگا۔آپ صلىاللهعليه_وسلم نے عطا کردی۔کسی نے عرض کی یا رسول اکرمصلىاللهعليه_وسلم آپ نے ہمیشہ جاری رہنے والا خزانہ کیوں اس کے حوالے کردیا۔جب آپ کو حقیقت معلوم ہوئی تو آپ نے واپس طلب کرلیا۔(ابو داءود
آدم قریشی لکھتے ہیں کہ جس زمین کو وہ (بلال) کاشت نہیں کرتا تھا حضرت عمر نے وہ لے کر غریب مسلمانوں میں تقسیم کردی۔(کتاب الخراج

  • This is Lec 1 for Islamic Economic system.
  • This lecture is helpful to Islamiat.
  • This lecture was made and research by Muhammad Fawad Khan.
  • website is eastwestknowledge.com.
  • Share with others to help them.

Total
7
Shares

Comments are closed.